Its Country for me summary in Urdu

This is simple and short summary and overview of the lesson It's country for me. This is lesson No. 4 of the English book of 1st year class 11 in FBISE and KPK board in Pakistan.

Its country for me short urdu Khulasa

May students were looking for a summary of the lesson It's country for me in Urdu. But it was not available on the web. So, I decided to put it online so that the students may read it or download it in pdf. The students usually look for an Urdu summary because they want to get an idea of what the lesson is about.

You may like:

Its country for me lesson 4

The lesson It's country for me has been written by Patricia Demuth. Here is a summary of the lesson. This is basically an overview of what the authoress has told in this lesson.

Summary in Urdu

میرے لیے یہ دیہاتی علاقہ ہے


اس سبق میں مصنفہ پیٹریشا ڈموتھ نے نہایت خوبصورتی سے ایک لڑکے جوئل کی روزمرہ کی دیہاتی زندگی کے بارے میں بات کی ہے۔ مصنفہ کہتی ہیں کہ جوئل رات کے گیارہ بج کر پندرہ منٹ پر اپنے کمرے میں پڑھ رہا تھا جب اس کی ماں نے اسے کہا کہ وہ چھوٹے بھیڑ کے بچے کو دودھ پلا آئے۔ پہلے اس کی ماں خود اس بچے کو دودھ پلاتی تھیں جس کی ماں ہفتہ پہلے اس پیدا کرتے ہی مر گئی تھی۔ آج اس کی ماں کسی میٹنگ سے دیر سے گھر پہنچی تھی اور کپڑے خراب ہونے کے ڈر سے اس نے جوئل کو دودھ پلانے کو کہا۔ جوئل کو بلکل برا نا لگا اور وہ دودھ کی باتل لے کر دودھ پلا آیا۔

وہ اکثر کئی دفعہ جانوروں کے باڑے میں جاتا تھا اور ان کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ جوئل اپنی پیدائش سے لیکر 13 سال سے اس کھیتوں پہ رہ رہا تھا یہ اس کے اباؤ اجداد کی زمین تھی جو اس کے پردادا کے پردادا نے 1860 میں خریدی تھی۔ جوئل کے اباؤ اجداد 120 سال سے اس زمین پر کاشت کاری کرتے آ رہے تھے۔ انہیں اس زمین سے محبت ہے۔ جوئل کو بھی یہ چیز وراثت میں ملی ہے۔

جوئل کا خاندان اس کے پردادا کے نام کی نسبت سے ہالینڈ کا خاندان کہلاتا ہے۔ وہ ایک چھوٹ سے گاؤں کے ساتھ اپنے وسیع و عریض رقبے پر رہتے ہیں جو کی پہاڑی علاقے میں سطح سمندر سے کافی بلند ہے۔


جوئل سکیلز ماؤنڈ کے ایک ہائی سکول میں آٹھریں جماعت میں پڑھتا ہے اور ایک اچھا طالب علم ہے۔ اگرچہ وہ دوسروں سے اپنی زیادہ تعریف نہیں سننا چاہتا تاہم وہ عما طور پر سکول میں (A) یا (B) گریڈ لیتا ہے۔

سکول سے آنے کے بعد وہ پگڈنڈی پر بھاگ کر گھر جاتا ہے اور بوٹ پہن کر کھیتوں پہ چلا جاتا ہے۔ وہ روزانہ اور خاص طور پر ہفتے کی چھٹیوں میں کئی گھنٹے کھیتوں میں کام کرتا ہے۔

جوئل کی عمر تیرہ چودہ سال ہے مگر وہ ایک جوان آدمی جتنا کام کرتا ہے۔ جوئل روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے کام کرتا ہے اور اپنے والد اور بھائیوں کو کام میں مدد دیتا ہے۔ ہر بچے کی مشقت خاندان کی خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔ہالینڈ کے خاندان کی زیادہ تر آمدنی جانور پیچ کر آتی ہے۔ فصلوں میں جانوروں کا چارا کاشت کرتے ہیں ۔ اضافی چارے کو بیچ کر بھی کچھ رقم کماتے ہیں۔

کھیت سے سارے کام اگر مشینوں، مزدوروں، اور پیشہ ورلوگوں سے لیے جائیں تو دس لاکھ ڈالر کا خرچ سا لانہ ہوتا ہے۔ جوئل یہ سب کام خود کرتا ہے۔ ابھی وہ بچہ ہے اور اس کا تجربہ نہیں ہے پر وہ روزانہ بہت سی مہارتیں سیکھتا رہتا ہے۔ اس کی منزلِ مقصود ایک کسان بننا ہے۔ لہذا جب اس کے والد اور بھائی کوئی کام کرتے ہیں تو وہ بڑے غور سے دیکھ کر سیکھتا ہے۔ وہ زمین کے لین دین، کاروباری لین دین، جانوروں کی جفاطت اور دیکھ بھال وغیرہ تمام معاملات کے بارے میں اپنے والد اور بھائیوں کی آپس میں باتیں بڑے غور سے سنتا ہے۔

ایڈ اور بیٹی اس کے والدین کے نام ہیں۔ جوئل کل چھ بہن بھائی میں اور جوئل ان میں سے سب سے چھوٹا ہے۔ وہ پانچ بھائی اور ایک بہن ہیں۔ بہن کھیتی سب سے بڑی ہے اور 24 سال کی ہے۔ وہ ایک چرچ میں راہبہ ہے اور ساتھ گریجو ایشن کر رہی ہے۔ وہ بھی تعلیم مکمل کر کے کھیتی باڑی میں واپس آنا چاہتی ہے۔ اس کے بعد والا بیٹا بائیس سالہ کیون بھی اس سال گریجو ایشن کی ڈگری حاصل کر لے گا۔ جوئل کے دو بھائی والدین کے ساتھ کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ ان کے والدین کی خواہش ہے کہ ان کے بچے تعلیم حاصل کریں چاہے بعد میں کھیتی باڑی والا کام ہی کریں۔

جوئل چونکہ سب سے چھوٹا ہے، تمام لوگ ہی اسے کوئی نا کوئی کام کہتے رہتے ہیں۔ اس طرح وہ تمام لوگوں سے چھوٹے چھوٹے کام کرتا ہے۔ اسی لیے جب اس کے بھائی اور والد یہ باتیں کر رہے تھے کہ کھیتی باڑی ایک خود مختار زندگی ہے۔ تم خود اپنے باس ہوتے ہو۔ تو جوئل نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میرے تو باس بہت سے ہیں۔ اس پر اس کے والد نے پوچھا کہ کون سے تو اس نے ان سب کی طرف اشارہ کر دیا۔ سب ہنسنے لگے۔

جوئل کا والد اس کی بہت تعریف کرتا ہے، کیونکہ وہ بغیر تھکے دن بھر بڑوں سے بھی زیادہ کام کرتا ہے پر کبھی کوئی محسوس نہیں کرتا۔ جوئل کا والد اس کی اتنی گرمجوشی پر بہت خوش اور اس کا معترف ہے۔

جوئل ہفتے کے آخری دنوں میں موسم گرما میں اٹھ سے پندرہ گھنٹے روزانہ کام کرتا ہے۔ صرف موسم بہار کے شروع میں جب بارشیں ہوتی ہیں تو ر طرف کیچڑ ہوتا ہے اس کے بوٹ کیچڑ چوس لیتے ہیں۔ اور چلنا مشکل ہوتا ہے تو اسے یہ برا لگتا ہے۔ اس لیے اسے بارشیں پسند نہیں۔

جوئل کے پسندیدہ کھیل ہیں جو گھر سے باہر کھیلے جاتے ہیں۔ وہ ہرن کا شکار کرتا ہے، آبشاروں میں جنگلی جانوروں کو پھنسانا، اور سردیوں میں برف گاڑی چلاتا ہے۔ بہار میں سافٹ بال اور باسکٹ بال کھیلتا ہے اور موسم گرما میں پانی میں پھسلنا اور مچھلیاں پکڑن جیسے کام اس کے مشاغل ہیں۔

دیہاتی زندگی جوئل کی روح میں بس چکی ہے۔ اسے اگر شہر میں رہنا پڑے تو وہ ایک دن بھی نہ رہ سکے۔ وہاں وہ موسم کے بدلنے، قدرتی نظاروں اور کام کرنے کی آزادی سے لطف اندوز نہیں ہو سکے گا۔ اسے لیے وہ کہتا ہے کہ اگر میرا کوئی پسندیدہ علاقہ ہے تو "میرے لیے یہ دیہاتی علاقہ ہے"


Post a comment

0 Comments